میٹا پلانیٹ کے چیف ایگزیکٹو سائمن گیرووچ نے ہانگ کانگ میں منعقدہ بٹ کوائن ایشیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بٹ کوائن کا اگلا اہم مرحلہ مشرقی ایشیا میں سامنے آ سکتا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ مارکیٹ سائیکلوں میں مغربی ممالک کا نمایاں کردار رہا، تاہم ایشیا کا پہلا بڑا بٹ کوائن سائیکل شروع ہو چکا ہے۔
جاپانی پبلک کمپنی میٹا پلانیٹ نے 2024 میں اپنی کاروباری حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے بٹ کوائن کو کمپنی کے بیلنس شیٹ میں شامل کیا۔ کمپنی اب دنیا کی بڑی بٹ کوائن ٹریژری رکھنے والی کارپوریشنز میں شمار ہوتی ہے، جبکہ اس کے حصص سرمایہ کاروں کو بٹ کوائن میں بالواسطہ سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
گیرووچ نے کہا کہ جاپان، ہانگ کانگ اور سنگاپور میں ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق بدلتے ضوابط ایشیائی کمپنیوں اور اداروں کے لیے نئے امکانات پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے جاپانی گھرانوں کی بڑی بچتوں، کم بینک منافع اور نقد رقم سے سرمایہ منتقل ہونے کے رجحان کو بھی ممکنہ محرک قرار دیا۔ ان کے خیال میں آئندہ مرحلہ ایشیا میں بٹ کوائن کے بنیادی ڈھانچے، ادارہ جاتی اپنانے اور کمپنی ٹریژری ماڈلز کی تعمیر کا ہوگا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine