شکاگو میں گندم کے مستقبل کے سودوں کی قیمتیں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں مزید شدت آنے کے خدشات کے باعث تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ بدھ کو سب سے زیادہ فعال گندم معاہدے میں یومیہ حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران بحیرۂ اسود سے اناج کی ترسیل میں رکاوٹوں نے عالمی منڈی میں رسد کے بارے میں تشویش بڑھا دی ہے۔ روسی اور یوکرینی بندرگاہوں، ٹرمینلز اور بحری راستوں پر حملوں کے نتیجے میں جہازوں کی آمد، لوڈنگ اور روانگی متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی خریداروں کے لیے متبادل سپلائی کا حصول زیادہ مہنگا اور غیر یقینی ہو گیا ہے۔ مارکیٹ میں یہ خدشہ بھی بڑھ رہا ہے کہ اگر بنیادی ڈھانچے پر حملے مزید وسیع ہوئے تو اناج کی نقل و حمل پر نئی پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔
یوکرین کی وزارت زراعت کے مطابق یکم سے 18 اگست تک ملک سے تقریباً نو لاکھ ٹن زرعی مصنوعات برآمد ہوئیں، جو مکمل لاجسٹک رسائی کی صورت میں ممکنہ حجم کا صرف تقریباً 31 فیصد ہے۔ وزارت نے بتایا کہ اناج کی برآمدات تقریباً 20 فیصد ممکنہ سطح تک محدود رہیں، کیونکہ متبادل زمینی اور دریائی راستے مکمل صلاحیت سے کام نہیں کر پا رہے اور بلند لاجسٹک اخراجات کئی کھیپوں کو تجارتی طور پر غیر منافع بخش بنا رہے ہیں۔ اسی دوران روسی گندم کی اگست کی برآمدات میں سالانہ بنیاد پر نمایاں کمی کی توقع نے عالمی توازنِ رسد پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔ گندم کی قیمتوں میں اس ماہ تقریباً 19 فیصد اضافہ آٹے، خوراکی افراطِ زر اور درآمدی ممالک کے بجٹ کے لیے اہم خطرہ بن سکتا ہے۔ مصر اور ایشیا کے بڑے خریداروں کو زیادہ مہنگی یا دور دراز منڈیوں سے خریداری کرنا پڑ سکتی ہے، جبکہ برآمد کنندگان، شپنگ کمپنیوں اور اجناس کے اداروں کو قیمت، بیمہ اور ترسیل کے خطرات دوبارہ جانچنا ہوں گے۔ یہ صورتحال زرعی اجناس میں ادارہ جاتی سرمایہ کاری، مارکیٹ کے جذبات اور عالمی غذائی تحفظ پر وسیع اثر ڈال سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance