امریکہ میں اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز میں سرمایہ کاری کا سلسلہ مسلسل آٹھویں کاروباری سیشن تک جاری رہا، جس کے نتیجے میں اگست کے دوران مجموعی خالص آمد تین ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ دستیاب مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق حالیہ آٹھ سیشنز میں بٹ کوائن فنڈز نے تقریباً 2.8 ارب ڈالر حاصل کیے ہیں۔ اس دوران ایتھر سے منسلک ای ٹی ایف مصنوعات میں بھی روزانہ کی بنیاد پر مضبوط طلب دیکھی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادارہ جاتی سرمایہ کار صرف بٹ کوائن تک محدود نہیں رہے بلکہ بڑے ڈیجیٹل اثاثوں کے وسیع تر حصے میں اپنی پوزیشنیں بڑھا رہے ہیں۔ اگست کے اختتام تک تین کاروباری سیشن باقی ہیں، اور موجودہ رفتار برقرار رہنے کی صورت میں یہ ماہانہ کارکردگی اکتوبر 2025 کے بعد ان فنڈز کے لیے بہترین ثابت ہو سکتی ہے۔
مسلسل سرمایہ کاری نے کرپٹو مارکیٹ میں اس بحث کو تقویت دی ہے کہ حالیہ تیزی محض مختصر مدتی شارٹ پوزیشنز کے خاتمے یا قیاس آرائی پر مبنی خریداری کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس کے پیچھے حقیقی اسپاٹ طلب بھی موجود ہے۔ ای ٹی ایف کے ذریعے روایتی بروکریج اکاؤنٹس، پنشن فنڈز، دولت کے منتظمین اور دیگر بڑے سرمایہ کار بٹ کوائن تک نسبتاً آسان اور ضابطہ شدہ رسائی حاصل کرتے ہیں، اس لیے ان میں آنے والا سرمایہ قیمت، مارکیٹ کی لیکویڈیٹی اور مجموعی جذبات پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم، ماہانہ ریکارڈ آمد کو مستقل رجحان سمجھنے سے پہلے شرح سود، امریکی مالیاتی پالیسی، ڈالر کی سمت اور عالمی خطرے کے رجحان کا جائزہ ضروری ہوگا۔ اگر سرمایہ کاری کا یہ بہاؤ برقرار رہتا ہے تو بٹ کوائن اور ایتھر کی قیمتوں کو مزید سہارا مل سکتا ہے، لیکن اچانک اخراج یا ضابطہ جاتی خدشات مارکیٹ میں تیزی سے اتار چڑھاؤ پیدا کر سکتے ہیں۔ اس لیے آنے والے سیشنز میں فنڈز کی روزانہ آمد، ادارہ جاتی پوزیشننگ اور قیمتوں کا ردعمل سرمایہ کاروں کے لیے اہم اشارے رہیں گے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk