ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 28 اگست کو کہا ہے کہ حالیہ جنگ کے نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ ہمسایہ ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈے ان ممالک کی سلامتی کو یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اڈے ابتدا ہی سے اسرائیل کے تحفظ کے لیے بنائے گئے تھے، جبکہ ایران کی جانب سے ان اڈوں کو نشانہ بنانا امریکی جارحیت کے جواب میں کیا گیا۔ عراقچی نے یہ مؤقف بھی دہرایا کہ ایران ہمسایہ ممالک کے خلاف دشمنی نہیں رکھتا، تاہم ان کی سرزمین پر موجود امریکی تنصیبات، فوجی مراکز اور دیگر عسکری اثاثوں کو واشنگٹن کے ساتھ جاری جنگ کے تناظر میں جائز اہداف تصور کیا جائے گا۔ ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں متعلقہ ممالک کے خلاف نہیں بلکہ امریکی فوجی ڈھانچے کے خلاف ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے پورے خلیجی خطے کے سلامتی کے ماحول کو غیر معمولی طور پر حساس بنا دیا ہے۔ خطے میں امریکی اڈے، فضائی راستے، بحری تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے کسی بھی نئے حملے یا جوابی کارروائی سے تنازع محدود رہنے کے بجائے کئی ممالک تک پھیل سکتا ہے۔ مالیاتی منڈیوں کے لیے اس صورتحال کا فوری اثر خطرے کے تاثر، تیل کی رسد، بحری نقل و حمل، انشورنس لاگت اور سرمایہ کاروں کے محتاط رویے پر پڑ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی عالمی توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پیدا کر سکتی ہے، جبکہ ممکنہ پابندیاں اور جوابی اقدامات کرنسیوں، شپنگ کمپنیوں اور علاقائی بینکوں پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔ ادارہ جاتی سرمایہ کار عموماً ایسے حالات میں دفاعی اثاثوں اور نسبتاً محفوظ مالی آلات کی طرف منتقل ہوتے ہیں، جس سے اسٹاک، ابھرتی ہوئی منڈیوں اور زیادہ خطرے والے اثاثوں میں فروخت کا رجحان پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر سفارتی رابطے کمزور پڑتے ہیں اور حملوں کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو مارکیٹ کا ردعمل محض عارضی جذباتی اتار چڑھاؤ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ افراط زر، شرح سود اور عالمی اقتصادی نمو سے متعلق توقعات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance