چین کی حکومت نے ایک نئی پابندی عائد کی ہے جس کے تحت ایپل کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ڈورسے کی میسجنگ ایپ ‘بٹ چیٹ’ کو اپنے چینی ایپ اسٹور سے ہٹا دے۔ یہ ایپ خاص طور پر ایران میں احتجاجات کے دوران استعمال کی گئی، اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ انٹرنیٹ کنکشن کے بغیر بلیوٹوتھ اور میش نیٹ ورکس کے ذریعے کام کرتی ہے۔ اس وجہ سے یہ ایپ بیجنگ کی سنسرشپ پالیسیوں کے لیے ایک چیلنج بن گئی ہے۔ بٹ چیٹ کی مقبولیت خاص طور پر ان علاقوں میں بڑھ گئی ہے جہاں حکومت کی نگرانی اور پابندیاں سخت ہیں، کیونکہ یہ صارفین کو بغیر انٹرنیٹ کے ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس پابندی کا فوری اثر یہ ہو سکتا ہے کہ چین میں احتجاج کرنے والے اور دیگر صارفین کو اپنی بات چیت کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنے پڑیں گے۔ اس اقدام سے چین کی حکومت کی سنسرشپ اور کنٹرول کی حکمت عملی مزید سخت ہونے کا امکان ظاہر ہوتا ہے، جو صارفین کی پرائیویسی اور اظہار رائے کی آزادی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ مستقبل میں، اس طرح کی پابندیاں دیگر ایسی ایپس پر بھی لگ سکتی ہیں جو حکومت کی نگرانی سے بچ کر کام کرتی ہیں، جس سے ڈیجیٹل آزادی کے حوالے سے عالمی سطح پر بحث میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk