حالیہ رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا سے وابستہ ہیکرز نے کرپٹو کرنسی مارکیٹ سے چھ ارب ڈالر سے زائد کی چوری کی ہے، جس میں 2026 کے سال کی چوری کا 76 فیصد حصہ شامل ہے۔ اپریل میں دو ڈی فائی پلیٹ فارمز سے 577 ملین ڈالر کی رقم نکالنا اس خطرے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے جو کرپٹو مارکیٹ کو لاحق ہے۔ یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ سائبر حملے اور مالی جرائم کرپٹو کرنسی کی دنیا میں کس حد تک بڑھ رہے ہیں، اور اس سے مارکیٹ میں اعتماد کی کمی واقع ہو رہی ہے۔
اس صورتحال کا مالیاتی منڈیوں پر گہرا اثر پڑ رہا ہے کیونکہ بڑے پیمانے پر چوری اور ہیکنگ کی وارداتیں سرمایہ کاروں کی روانی کو متاثر کرتی ہیں، جس سے لیکویڈیٹی میں کمی آتی ہے اور مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے۔ اس کے علاوہ، اس طرح کے واقعات ریگولیٹری خطرات کو بھی بڑھاتے ہیں، جس کی وجہ سے حکومتیں اور مالیاتی ادارے کرپٹو مارکیٹ کے ضوابط سخت کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ اس سے ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں کمی واقع ہو سکتی ہے، جو کہ کرپٹو کرنسی کی ترقی اور استحکام کے لئے نقصان دہ ہے۔ مارکیٹ کے جذبات بھی منفی ہو رہے ہیں، کیونکہ سرمایہ کار خوفزدہ ہیں کہ مستقبل میں بھی ایسے حملے ہو سکتے ہیں جو مالی نقصان کا باعث بنیں۔ اس طرح کے واقعات مجموعی طور پر کرپٹو کرنسی کے نظام پر ایک قسم کا نظامی خطرہ پیدا کرتے ہیں، جو عالمی مالیاتی نظام کی سالمیت کے لئے چیلنج ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt