برطانیہ اینتھروپک کی توسیع کے لیے کوشاں، امریکی بلیک لسٹ کے باوجود

برطانیہ نے مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کو ملک میں اپنی سرگرمیاں بڑھانے کے لیے قائل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ برطانوی حکومت نے اینتھروپک کے لندن میں دفتر کی توسیع یا دوہری لسٹنگ کے امکانات پیش کیے ہیں تاکہ کمپنی کی موجودگی کو مضبوط کیا جا سکے۔ یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اینتھروپک کو امریکی حکومت نے قومی سلامتی کے خدشات کی بنیاد پر بلیک لسٹ میں شامل کیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اینتھروپک نے اپنے چیٹ بوٹ کلاؤڈ کو امریکی نگرانی یا خودکار ہتھیاروں کے نظام کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی، جس کی وجہ سے سپلائی چین کے خطرات لاحق ہیں۔ تاہم، امریکی عدالت نے اس بلیک لسٹ کی عارضی طور پر روک لگا دی ہے اور اینتھروپک نے اس فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کی حمایت سے سائنس، انوویشن اور ٹیکنالوجی کے محکمے کی جانب سے اینتھروپک کے سی ای او کو یہ تجاویز پیش کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس پیش رفت سے برطانوی مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت کے شعبے کو فروغ ملنے کے امکانات ہیں، جبکہ امریکی پابندیوں کے باوجود کمپنی کی بین الاقوامی توسیع کے راستے کھل سکتے ہیں۔ مستقبل میں اس تنازع کے حل اور کمپنی کی عالمی حکمت عملی پر اس کا اثر مارکیٹ کے لیے اہم ہو گا۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

ٹیگز:
شئیر کیجیے: