بینکنگ کے بڑے ادارے عوامی بلاک چینز کو اپنانے کے بجائے اپنی نجی بلاک چینز بنانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عوامی بلاک چینز ان اداروں کے تجارتی اور رسک مینجمنٹ کے طریقوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ اس رجحان کی وضاحت ڈبلیو آر ڈبلیو کے بانی ڈان ولسن نے کی، جن کا کہنا ہے کہ عوامی بلاک چینز کی کھلی نوعیت اور شفافیت مالیاتی اداروں کی مخصوص ضروریات کے خلاف ہے۔ اس کے نتیجے میں، بڑے بینک اپنی مرضی کے مطابق بلاک چین حل تیار کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی داخلی کارکردگی کو بہتر بنا سکیں اور خطرات کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کر سکیں۔ اس تبدیلی کا فوری اثر یہ ہو سکتا ہے کہ بلاک چین ٹیکنالوجی کی قبولیت میں مختلفیت آئے گی، جہاں نجی بلاک چینز کی ترقی تیز ہوگی جبکہ عوامی بلاک چینز کی مقبولیت محدود رہے گی۔ مستقبل میں، یہ رجحان مالیاتی صنعت میں بلاک چین کے استعمال کے طریقوں کو تبدیل کر سکتا ہے، اور ممکن ہے کہ اس سے مارکیٹ میں نئی قسم کی ٹیکنالوجیکل جدتیں سامنے آئیں۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا خطرہ بھی موجود ہے کہ بلاک چین کی شفافیت اور کھلے پن کی خصوصیات کمزور پڑ سکتی ہیں، جو مارکیٹ کی شفافیت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk