وائٹ ہاؤس نے اینتھروپک کے مصنوعی ذہانت کے نظام، خاص طور پر کلاؤڈ مائتھوس، کو وفاقی اداروں کے لیے دوبارہ متعارف کرانے پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام پینٹاگون کی جانب سے اس ٹیکنالوجی پر عائد پابندیوں کے باوجود سامنے آیا ہے۔ سابقہ انتظامیہ کے عہدیداروں نے ایسے رہنما اصول تیار کیے ہیں جو وفاقی ایجنسیوں کو اینتھروپک کی خدمات تک رسائی میں مدد فراہم کریں گے۔ اس پیش رفت کا مقصد وفاقی سطح پر جدید مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دینا اور اس کے فوائد سے حکومتی اداروں کو مستفید کرنا ہے۔ تاہم، پینٹاگون کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر تحفظات موجود ہیں جن میں سیکیورٹی اور کنٹرول کے مسائل شامل ہیں۔ اس صورتحال سے مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جس کا اثر متعلقہ کمپنیوں اور وفاقی پالیسیوں پر پڑ سکتا ہے۔ آئندہ دنوں میں اس معاملے پر مزید وضاحت اور ممکنہ فیصلے متوقع ہیں جو مصنوعی ذہانت کے استعمال کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt