برطانیہ کی حکومت نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت (AI) کمپنیوں کو کاپی رائٹ شدہ مواد کے ذریعے اپنے ماڈلز کی تربیت کی اجازت دینے والے ایک تجویز کو واپس لے لیا ہے۔ اس تجویز کے تحت ایک آپٹ آؤٹ نظام کے ذریعے AI کمپنیوں کو خودکار طور پر مواد استعمال کرنے کی اجازت دی جانی تھی، لیکن حکومت نے کہا ہے کہ موجودہ کاپی رائٹ قوانین کو برقرار رکھا جائے گا کیونکہ کوئی متبادل فریم ورک یا بین الصنفی معاہدہ موجود نہیں ہے۔ اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ AI کمپنیوں کو اب بھی کاپی رائٹ قوانین کی پابندی کرنی ہوگی اور وہ بغیر اجازت کے مواد استعمال نہیں کر سکیں گی۔ اس اقدام سے تخلیقی صنعتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا، تاہم AI کی ترقی پر اس کے اثرات بھی زیر غور ہیں کیونکہ تربیتی مواد کی دستیابی محدود ہو سکتی ہے۔ مستقبل میں حکومت ممکنہ طور پر مزید مشاورت اور قانونی فریم ورک پر کام کر سکتی ہے تاکہ AI کی ترقی اور حقوق کی حفاظت کے درمیان توازن قائم کیا جا سکے۔ اس فیصلے سے مارکیٹ میں محتاط ردعمل متوقع ہے کیونکہ AI اور ٹیکنالوجی کے شعبے اس قانون کی تبدیلی کے منتظر تھے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance