امریکی سینیٹر سنتھیا لُمِس نے بٹ کوائن کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران کانگریس کو خبردار کیا ہے کہ وہ کلیرٹی ایکٹ کے حوالے سے مئی میں اہم پیش رفت کرے گی۔ اس قانون سازی کا مقصد ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ایک جامع مارکیٹ فریم ورک فراہم کرنا ہے، جو کئی ماہ سے سینیٹ میں رکا ہوا ہے۔ لُمِس نے بتایا کہ یہ بل ہاؤس سے تو منظور ہو چکا ہے مگر سینیٹ بینکنگ کمیٹی میں مستحکم حمایت نہ ملنے کی وجہ سے اس کی منظوری میں تاخیر ہو رہی ہے۔ اس تاخیر کی وجہ سے ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے اور مارکیٹ میں سرگرمیاں بیرون ملک منتقل ہونے کا خطرہ ہے۔ لُمِس نے کہا کہ مئی میں کمیٹی میں اس بل کی مارک اپ متوقع ہے، جس کے بعد سینیٹ میں ووٹنگ ہو سکتی ہے۔ اس قانون کے تحت زیادہ تر غیر مستحکم کوائنز پر CFTC کا کنٹرول ہوگا جبکہ SEC کی حدود محدود ہوں گی۔ اس پیش رفت سے مارکیٹ میں شفافیت اور استحکام آئے گا، اور سرمایہ کاروں کو قانونی تحفظ فراہم ہوگا۔ تاہم، اگر مئی کے بعد بھی بل کی منظوری میں تاخیر ہوئی تو اس کے سالانہ نفاذ کے امکانات کم ہو جائیں گے، کیونکہ سینیٹ کا اجلاس گرمیوں کی تعطیلات سے پہلے محدود ہوگا۔ اس لیے مارکیٹ کے شرکاء اس قانون کی جلد منظوری کے لیے پرامید ہیں تاکہ ڈیجیٹل اثاثوں کی صنعت میں اعتماد بحال ہو سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine