امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) نے تسلیم کیا ہے کہ کرپٹو کرنسی کمپنیوں کے خلاف کچھ نفاذی اقدامات نے براہ راست سرمایہ کاروں کی حفاظت فراہم نہیں کی۔ مالی سال 2022 سے اب تک ایس ای سی نے 95 نفاذی کارروائیاں شروع کی ہیں جن کے نتیجے میں تقریباً 2.3 ارب ڈالر جرمانے عائد کیے گئے، تاہم بعض مقدمات میں حقیقی سرمایہ کار نقصان یا واضح حفاظتی فوائد سامنے نہیں آئے۔ ایس ای سی نے بتایا کہ پہلے کی حکمت عملی میں تعداد کو معیار پر فوقیت دی گئی اور وسائل کی مناسب تقسیم نہیں ہوئی۔ موجودہ چیئرمین پال ایٹکنز کی قیادت میں، ایس ای سی نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے اور اب وہ فراڈ اور مارکیٹ میں مداخلت پر زیادہ توجہ دے رہی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اس تبدیلی کے باعث مالی سال 2025 میں عوامی کمپنیوں بشمول کرپٹو سیکٹر کے خلاف نفاذی کارروائیوں میں تقریباً 30 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ اس اقدام سے مارکیٹ میں شفافیت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ متوقع ہے، تاہم نگرانی اور نفاذ کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت برقرار ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance