بٹ کوائن پالیسی انسٹی ٹیوٹ (BPI) نے کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے مجوزہ کم از کم ٹیکس چھوٹ کو صرف پیمنٹ اسٹیبل کوائنز تک محدود نہ رکھے بلکہ بٹ کوائن اور دیگر بڑے نیٹ ورک ٹوکنز کو بھی شامل کرے۔ موجودہ قانون کے تحت بٹ کوائن کو جائیداد کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس کے باعث ہر لین دین پر کیپٹل گینز کا حساب لگانا پڑتا ہے، چاہے لین دین کی رقم کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو۔ BPI کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار روزمرہ کی چھوٹی ادائیگیوں جیسے کافی خریدنا یا معمولی رقوم بھیجنے کو مشکل بناتا ہے کیونکہ صارفین کو ہر چھوٹے فائدے یا نقصان کی رپورٹنگ کرنی پڑتی ہے۔ کانگریس میں مختلف ارکان نے اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف تجاویز پیش کی ہیں، جن میں لین دین کی حد اور سالانہ کیپ شامل ہیں۔ BPI اس بات پر زور دیتا ہے کہ صرف اسٹیبل کوائنز کو چھوٹ دینا بٹ کوائن کے استعمال کو محدود کرے گا اور دیگر نیٹ ورک ٹوکنز کے ٹرانزیکشن فیس کو نظر انداز کرے گا جو اب بھی ٹیکس کے تابع ہیں۔ اس وقت BPI نے کانگریس کے متعدد دفاتر سے رابطہ کیا ہے تاکہ ایک جامع اور وسیع تر ٹیکس اصلاحات کی حمایت حاصل کی جا سکے۔ اس پیش رفت سے مارکیٹ میں بٹ کوائن کے استعمال کو فروغ ملنے کی توقع ہے، خاص طور پر چھوٹے پیمانے پر ادائیگیوں میں آسانی پیدا ہوگی۔ تاہم، سیاسی حالات اور آئندہ انتخابات کے پیش نظر اس قانون سازی کے عمل میں تاخیر یا رکاوٹ کا امکان بھی موجود ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine