پاکستان نے بٹ کوائن اور کرپٹو بینکنگ پابندی ختم کر دی، مالی نظام کو لائسنس یافتہ کمپنیوں کے لیے کھول دیا

پاکستان کے مرکزی بینک نے طویل عرصے سے جاری کرپٹو کرنسی کمپنیوں کے لیے بینکنگ خدمات پر پابندی کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا ہے۔ اب منظم بینک لائسنس یافتہ ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کرنے والوں کے لیے کھاتے کھول سکیں گے، جو نئے قانونی فریم ورک کے تحت کام کریں گے۔ یہ فیصلہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ سرکلر میں کیا گیا ہے، جو ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے نفاذ کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس اقدام سے پاکستان کے مالیاتی نظام میں ڈیجیٹل اثاثہ جات کو شامل کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ بینکوں کو لازمی ہے کہ وہ اپنے کلائنٹس کی مکمل جانچ پڑتال کریں اور مشتبہ لین دین کی رپورٹنگ کریں تاکہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف سخت حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔ تاہم، بینکوں کو خود کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری یا تجارت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ اس فیصلے سے پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے شعبے کو قانونی تحفظ ملے گا اور عالمی سطح پر ملک کو ڈیجیٹل اثاثہ جات کے لیے ایک منظم مرکز کے طور پر پیش کیا جائے گا۔ مستقبل میں یہ ممکن ہے کہ پاکستان کرپٹو کرنسی اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے میدان میں مزید ترقی کرے، جس سے ملکی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine

شئیر کیجیے: