حال ہی میں جاری کی گئی ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز نے 2025 کے دوران کرپٹو کرنسی کی دنیا میں 2.1 ارب ڈالر کے قریب رقم چوری کی ہے، جو اس سال کے مجموعی نقصان کا 60 فیصد بنتا ہے۔ یہ گروہ جدید ترین کراس چین نیٹ ورکس کے ذریعے اپنے جرائم کو منظم اور منی لانڈرنگ کے عمل کو پیچیدہ بنا کر عالمی کرپٹو مارکیٹ میں نمایاں اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ ریاستی سرپرستی یافتہ تنظیموں کی یہ کارروائیاں نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنی ہیں بلکہ کرپٹو کرنسی کے نظام میں اعتماد کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔
اس قسم کی سرگرمیاں عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں خطرات کو بڑھاتی ہیں کیونکہ یہ غیر یقینی صورتحال اور ریگولیٹری خدشات کو جنم دیتی ہیں۔ جب بڑے پیمانے پر کرپٹو چوری اور منی لانڈرنگ ہوتی ہے تو سرمایہ کاروں کی نفسیات متاثر ہوتی ہے، جس سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بڑھتا ہے۔ مزید برآں، اس طرح کی وارداتیں مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاری کے بڑے پلیئرز کے لیے بھی خطرہ بن جاتی ہیں کیونکہ وہ اپنے اثاثوں کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جو مارکیٹ کی لیکویڈیٹی اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو متاثر کر سکتے ہیں۔
عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے ریگولیٹری دباؤ کی وجہ سے، اس طرح کے واقعات سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کرتے ہیں اور مارکیٹ میں نظامی خطرات کو بڑھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، چونکہ یہ حملے کراس چین ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہیں، اس لیے ان کا پتا لگانا اور روکنا مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے، جو مجموعی طور پر کرپٹو کرنسی کی دنیا میں استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں اور حکومتی ریگولیٹرز کو مشترکہ اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt