ایرانی سفارتخانہ فن لینڈ نے کہا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی پر اسرائیل کا اثر ہے، نہ کہ واشنگٹن کا۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیوان نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ایران پر امریکی حملے سے پہلے امریکی ٹیم ایران کی پیش کردہ معاہدے کو سمجھ نہیں سکی۔ سولیوان کے مطابق، ایران نے جنیوا میں ایک تجویز پیش کی جو جوہری مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتی تھی، لیکن امریکی مذاکرات کاروں نے اسے نظر انداز کیا اور حملہ جاری رکھا۔ ایرانی سفارتخانے نے اس ردعمل میں کہا کہ مسئلہ سمجھنے کا نہیں بلکہ قیادت کا ہے، اور اسرائیل امریکی خارجہ پالیسی کا اصل اثر رکھنے والا ہے جو کسی سفارتی حل کی اجازت نہیں دے گا۔ اس بیان سے خطے میں سفارتی کشیدگی میں اضافہ متوقع ہے اور ممکنہ طور پر مستقبل میں تعلقات میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance