گری اسکیل کے تحقیقاتی سربراہ زیک پانڈل نے ٹوکنائزیشن کے عمل کے حوالے سے اہم پیش گوئی کی ہے کہ یہ عمل مختلف مراحل میں ہوگا۔ ان کے مطابق سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ اس رجحان کو مرحلہ وار سمجھیں اور سرمایہ کاری کریں۔ پہلے مرحلے میں ادارہ جاتی نیٹ ورکس جیسے کہ کینٹون کامیاب ہوں گے، جبکہ بعد میں ایوالانچ اور ایتھیریم جیسے پلیٹ فارمز مزید ترقی کریں گے اور زیادہ فائدہ اٹھائیں گے۔ یہ پیش گوئی اس وقت سامنے آئی ہے جب ڈیجیٹل اثاثوں کی دنیا میں ٹوکنائزیشن کی اہمیت بڑھ رہی ہے اور سرمایہ کار اس نئے رجحان میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ اس تجزیے سے مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے مواقع واضح ہوتے ہیں اور سرمایہ کار بہتر حکمت عملی بنا سکتے ہیں۔ مستقبل میں، اس عمل کے بڑھنے سے مالیاتی نظام میں شفافیت اور رسائی میں اضافہ متوقع ہے، تاہم اس کے ساتھ کچھ چیلنجز اور خطرات بھی ہو سکتے ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہوگا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk