بیسل III کے تحت بٹ کوائن کے خطرے کا وزن اور امریکی بینکوں پر اثرات

Crypto-urdu News

امریکی فیڈرل ریزرو نے بیسل III کے نئے قواعد کے نفاذ کے حوالے سے 90 روزہ عوامی مشاورت کا آغاز کیا ہے۔ موجودہ فریم ورک کے تحت بٹ کوائن کو 1250 فیصد خطرے کے وزن کے ساتھ درجہ دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ بینکوں کو اپنے بیلنس شیٹس پر ہر ایک ڈالر بٹ کوائن کے لیے ایک ڈالر ریزرو رکھنا ہوگا۔ اس شرط کی وجہ سے مالی ماہرین کا کہنا ہے کہ بینکوں کے لیے بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کرنا مالی طور پر غیر معقول ہو گیا ہے۔ فروری میں، کرپٹو خزانہ کے اعلیٰ حکام نے ریگولیٹرز سے درخواست کی تھی کہ وہ ڈیجیٹل اثاثوں کے خطرے کے وزن پر نظر ثانی کریں تاکہ اپ ڈیٹ کو حتمی شکل دینے سے پہلے اس مسئلے کو حل کیا جا سکے۔ اس اقدام سے امریکی بینکنگ سیکٹر میں بٹ کوائن کی شمولیت محدود ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں کرپٹو مارکیٹ پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آئندہ، اگر یہ قواعد سختی سے نافذ ہوتے ہیں تو بینکوں کی جانب سے کرپٹو اثاثوں کی سرمایہ کاری میں کمی متوقع ہے، جس سے مارکیٹ کی لیکویڈیٹی اور ترقی پر اثر پڑ سکتا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

ٹیگز:
شئیر کیجیے: