آسٹریلیا کی سینیٹ کی ایک کمیٹی نے کرپٹو کرنسی کے شعبے کے لیے ایک نیا ریگولیٹری فریم ورک پیش کیا ہے جس کا مقصد کرپٹو پلیٹ فارمز اور کسٹوڈینز کو مالیاتی خدمات کے قوانین کے تحت لانا ہے۔ اس تجویز کے تحت وہ آپریٹرز جو صارفین کے ٹوکنز رکھتے ہیں، انہیں لائسنس حاصل کرنا ہوگا اور نئے اثاثہ تحفظ کے معیارات پر عمل کرنا ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد کرپٹو مارکیٹ میں شفافیت اور صارفین کے فنڈز کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ اس سے صارفین کو زیادہ اعتماد ملے گا اور کرپٹو پلیٹ فارمز کی قانونی حیثیت واضح ہو جائے گی۔ مارکیٹ میں اس فیصلے کے اثرات مثبت ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ ریگولیٹری وضاحت سرمایہ کاروں کو راغب کرے گی اور غیر قانونی سرگرمیوں کو کم کرے گی۔ مستقبل میں، اس فریم ورک کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ اسے کس حد تک مؤثر طریقے سے نافذ کیا جاتا ہے اور آیا یہ دیگر ممالک کے ریگولیٹری ماڈلز کے ساتھ ہم آہنگ ہو پاتا ہے یا نہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt