ویتنام کی حکومت نے بیرون ملک کرپٹو کرنسی پلیٹ فارمز تک رسائی محدود کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ ملکی سطح پر ڈیجیٹل اثاثوں کی نگرانی کو مضبوط کیا جا سکے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے تیار کردہ قواعد کے تحت ویتنامی شہریوں کو بین الاقوامی ایکسچینجز جیسے بائننس، او کے ایکس، اور بائی بٹ پر تجارت کرنے سے روکا جائے گا۔ یہ اقدام پانچ سالہ پائلٹ پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد کرپٹو ٹریڈنگ کو ملکی کنٹرول میں لانا اور سرمایہ کے باہر جانے کو روکنا ہے۔ ویتنام کرپٹو مارکیٹ میں دنیا کے فعال ترین ممالک میں شامل ہے جہاں صارفین نے گزشتہ سال کے دوران 200 ارب ڈالر سے زائد کی ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت کی۔ نئی پالیسی کے تحت صرف مقامی لائسنس یافتہ پلیٹ فارمز کو کام کرنے کی اجازت دی جائے گی، جس سے صارفین کو بین الاقوامی ایکسچینجز سے منتقل ہونا ہوگا۔ اس سے فراڈ کے خطرات کم ہوں گے اور لین دین سے حاصل ہونے والی آمدنی ملکی معیشت میں رہے گی۔ اب تک پانچ کمپنیوں نے لائسنسنگ کے ابتدائی مراحل مکمل کر لیے ہیں جن میں ٹیک کام بینک، وی پی بینک، اور ایل پی بینک کے ذیلی ادارے شامل ہیں۔ لائسنس کے لیے سخت شرائط رکھی گئی ہیں جن میں کم از کم 10 ٹریلین ویتنامی ڈونگ کا سرمایہ اور سائبر سیکیورٹی و اینٹی منی لانڈرنگ کے معیارات شامل ہیں۔ اس اقدام سے ویتنامی کرپٹو مارکیٹ میں شفافیت بڑھے گی اور ملکی پلیٹ فارمز کی ترقی کو فروغ ملے گا، تاہم صارفین کے لیے عالمی مارکیٹ تک رسائی محدود ہو سکتی ہے۔ توقع ہے کہ پہلے لائسنس یافتہ ایکسچینجز مارچ 2026 تک شروع ہو جائیں گے، جو ویتنام کی ڈیجیٹل اثاثوں کی ریگولیشن کی سمت متعین کریں گے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine