امریکہ میں کرپٹو ریگولیشن کے چیلنجز اور مستقبل کے امکانات

Crypto-urdu News

امریکہ میں کرپٹو کرنسی کی ریگولیشن کے حوالے سے ایک اہم قانون سازی کا عمل جاری ہے جسے CLARITY ایکٹ کہا جاتا ہے۔ گلیکسی ریسرچ کے سربراہ ایلکس تھورن نے اس قانون سازی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ بل اپریل کے آخر تک سینیٹ کمیٹی سے منظور نہ ہوا تو اس کے 2026 تک منظور ہونے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ اس بل کو مئی کے اوائل تک سینیٹ کی مکمل ووٹنگ ایجنڈے میں شامل کرنا ضروری ہے۔ اس قانون سازی کا سب سے بڑا مسئلہ اسٹیبل کوائنز کے انعامات کے حوالے سے جاری بحث ہے جو کہ ایک رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ تاہم، تھورن نے یہ بھی کہا کہ اگر اس مسئلے پر کوئی سمجھوتہ ہو بھی جاتا ہے تو پھر بھی دیگر مسائل جیسے کہ ڈی سینٹرلائزڈ فائنانس (DeFi)، ڈویلپرز کی حفاظت، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) کے اختیارات، اور اخلاقی پہلو مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ اس صورتحال کا اثر مارکیٹ پر نمایاں ہو سکتا ہے اور سرمایہ کاروں کو مستقبل میں ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگرچہ اس قانون سازی کے ذریعے کرپٹو مارکیٹ کو بہتر طریقے سے منظم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر اس کے عمل میں تاخیر یا ناکامی مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

ٹیگز:
شئیر کیجیے: