کریپٹو کرنسی کے اثاثے روایتی اکاؤنٹنگ اصولوں کی پیروی نہیں کرتے، جس کی وجہ سے آڈیٹرز اور فنڈ مینیجرز کو بڑے خطرات کا سامنا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں اس حوالے سے مختلف رجحانات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ امریکہ میں کریپٹو اکاؤنٹنگ کے لیے سخت قواعد و ضوابط نافذ کیے جا رہے ہیں تاکہ مالیاتی شفافیت اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، جبکہ یورپی یونین میں اس سلسلے میں زیادہ لچکدار اور ترقی پسند پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال کا فوری اثر مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی حکمت عملیوں اور فنڈ مینجمنٹ پر پڑ رہا ہے، کیونکہ انہیں نئے قواعد کے مطابق اپنی مالی رپورٹس تیار کرنی پڑ رہی ہیں۔ آئندہ وقت میں یہ ممکن ہے کہ دونوں خطوں کے قوانین میں مزید ہم آہنگی پیدا کی جائے تاکہ عالمی سطح پر کریپٹو کرنسی کی اکاؤنٹنگ کے معیارات بہتر بن سکیں۔ اس کے علاوہ، مارکیٹ میں شفافیت اور اعتماد بڑھانے کے لیے مزید اصلاحات کی توقع کی جا رہی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk