کریپٹو کرنسی کے بلاک چین نیٹ ورکس میں کوڈ کمیٹس میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ سے ڈیولپرز کی توجہ اب مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔ بڑے نیٹ ورکس جیسے ایتھیریم اور سولانا میں شراکت داروں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے بلاک چین کی ترقی پر اثر پڑ رہا ہے۔ اس تبدیلی کا فوری اثر مارکیٹ میں نئے فیچرز اور اپڈیٹس کی رفتار میں سست روی کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے، جو صارفین اور سرمایہ کاروں کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔ مستقبل میں، اگر یہ رجحان جاری رہا تو بلاک چین ٹیکنالوجی کی ترقی میں رکاوٹیں آ سکتی ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے۔ اس صورتحال میں، بلاک چین کمیونٹی کو اپنی توجہ اور وسائل کو متوازن کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں شعبوں میں ترقی ممکن ہو سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk