کریکن فنانشل کو حال ہی میں کینساس سٹی فیڈرل ریزرو کی جانب سے منظوری ملنے کے بعد امریکی فیڈرل ریزرو کے ادائیگی نظام تک براہ راست رسائی حاصل ہو گئی ہے۔ تاہم، اس منظوری کے تحت کریکن کو مکمل بینکنگ مراعات حاصل نہیں ہیں، جیسے کہ ریزروز پر سود کا حق۔ یہ اقدام مالیاتی نظام میں ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ اس سے کریکن فنانشل کو امریکی مالیاتی نظام کے مرکزی ادائیگی نیٹ ورکس کے ساتھ براہ راست انٹرفیس کرنے کی سہولت ملتی ہے، جو اس کی خدمات کو بہتر بنانے اور صارفین کے لیے ادائیگی کے عمل کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ منظوری کریکن فنانشل کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے کیونکہ اس سے اسے روایتی بینکنگ نظام کے قریب تر لایا گیا ہے، اگرچہ مکمل بینکنگ حقوق کے بغیر۔ اس قدم سے مارکیٹ میں کریکن کی ساکھ میں اضافہ ہو سکتا ہے اور اس کے ادارہ جاتی صارفین کی تعداد میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ اس کے علاوہ، یہ مالیاتی نظام میں کرپٹو کرنسی اور روایتی بینکنگ کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوششوں کا حصہ بھی سمجھا جا سکتا ہے۔
اس پیش رفت کا مارکیٹ پر درمیانے درجے کا اثر متوقع ہے کیونکہ یہ کریکن فنانشل کو ادائیگی کے نظام میں براہ راست شمولیت کی اجازت دیتا ہے، جو لیکویڈیٹی اور ادائیگی کی روانی کو بہتر بنا سکتا ہے۔ تاہم، مکمل بینکنگ مراعات نہ ملنے کی وجہ سے اس کا اثر محدود رہے گا۔ سرمایہ کار اور صارفین اس تبدیلی کو مثبت طور پر دیکھ سکتے ہیں کیونکہ یہ کرپٹو اور روایتی مالیاتی نظام کے درمیان پل کا کام دے گا، جس سے مارکیٹ میں اعتماد اور استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: cointelegraph