برطانیہ میں ڈیجیٹل پاؤنڈ کی ترقی میں تاخیر کا امکان، نجی شعبے کی جدتوں پر غور

برطانیہ کی وزارت خزانہ اور بینک آف انگلینڈ نے مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسی ‘برٹ کوائن’ کی ترقی میں تاخیر کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ حکام ایک متوازن حل تلاش کر رہے ہیں جس کے تحت اس منصوبے کی منظوری یا مکمل ترک کرنے کے بجائے اس کی پیش رفت کو مؤخر کیا جائے گا۔ اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ نجی شعبے کی جانب سے پیش کی جانے والی جدید مالیاتی خدمات ہیں، جیسے کہ ٹوکنائزڈ ڈپازٹس، جو موجودہ ضابطہ شدہ بینکنگ نظام کو استعمال کرتے ہوئے تیز اور کم لاگت والی ادائیگیاں ممکن بنا سکتی ہیں۔ اس وقت بینک آف انگلینڈ کے گورنر اینڈریو بیلی اس بات پر محتاط ہیں کہ ریٹیل ڈیجیٹل پاؤنڈ کی فوری ضرورت ہے یا نہیں۔ اس کے برعکس، یورپی مرکزی بینک اپنے ڈیجیٹل یورو منصوبے کو آگے بڑھا رہا ہے، جبکہ امریکہ نے مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسیوں پر کام روک دیا ہے۔ اس تاخیر سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، تاہم نجی شعبے کی جدتوں کے باعث صارفین کو بہتر اور مؤثر مالیاتی خدمات ملنے کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ مستقبل میں اس منصوبے کی حتمی شکل اور اس کے اطلاق کے طریقہ کار میں مزید وضاحت متوقع ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

ٹیگز:
شئیر کیجیے: