بٹ کوائن 2026 کانفرنس میں نمایاں صنعت کے رہنماؤں نے کہا کہ بٹ کوائن روایتی مالیاتی نظام کو تبدیل کر رہا ہے اور اس کے ذریعے ادارہ جاتی سرمایہ کاری میں ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے۔ نکا موتو اسٹیج پر منعقدہ پینل میں ڈیویڈ بیلی، الیگزینڈر لیزٹ اور ڈیلان لیکلیر نے اس بات پر زور دیا کہ بٹ کوائن ایک غیر مرکزی کارپوریشن کی طرح کام کر رہا ہے جہاں مختلف ادارے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ ایک دوسرے کے حریف ہوں۔
پینل میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگرچہ بٹ کوائن کی مقبولیت بڑھ رہی ہے، لیکن ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے ابھی بھی کئی رکاوٹیں موجود ہیں، جیسے کہ سرمایہ کاری کے قواعد و ضوابط اور مناسب انفراسٹرکچر کی کمی۔ لیکلیر نے بتایا کہ 99 فیصد ادارہ جاتی سرمایہ کار ابھی تک بٹ کوائن یا بٹ کوائن ای ٹی ایف تک رسائی حاصل نہیں کر پائے ہیں کیونکہ ان کے فنڈز مخصوص اثاثہ کلاسز تک محدود ہیں۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ بٹ کوائن کی مکمل قبولیت ایک تدریجی عمل ہے جس کے لیے مؤثر کسٹوڈی سلوشنز، تعمیل شدہ مصنوعات اور واضح ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت ہے۔ کیپٹل بی کی جانب سے یورپی سرمایہ کاروں کو بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کے لیے نئے متبادل فراہم کیے جا رہے ہیں، جن میں بلیک راک کا بٹ کوائن ای ٹی پی اور ڈیجیٹل کریڈٹ مصنوعات شامل ہیں جو قیمت کی غیر یقینی صورتحال کو کم کرتی ہیں۔
یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ بٹ کوائن کی عالمی مالیاتی نظام میں شمولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، لیکن ابھی بھی اس کے لیے کئی چیلنجز باقی ہیں جن پر قابو پانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ مکمل طور پر ادارہ جاتی سرمایہ کاری کا حصہ بن سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine