بٹ کوائن کی کوانٹم کمپیوٹنگ کا مسئلہ: حکمرانی کا بحران

بٹ کوائن کے سامنے کوانٹم کمپیوٹنگ کا خطرہ تکنیکی نہیں بلکہ حکمرانی کا مسئلہ ہے۔ بٹ کوائن کے ماہرین نے کوانٹم کمپیوٹنگ کے خطرات کے لیے حل پیش کیا ہے، لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا نیٹ ورک وقت پر اس پر اتفاق کر پائے گا۔ بٹ کوائن کی سیکیورٹی ایلیپٹک کرپٹوگرافی پر منحصر ہے جو پرائیویٹ کیز کو محفوظ رکھتی ہے، لیکن ایک طاقتور کوانٹم کمپیوٹر اس کرپٹوگرافی کو توڑ سکتا ہے اور بٹ کوائن چوری کا باعث بن سکتا ہے۔ گوگل کی تحقیق کے مطابق 2029 تک کوانٹم کمپیوٹر اس حد تک پہنچ سکتا ہے۔ اس خطرے کے پیش نظر، بٹ کوائن کے لیے BIP-360 اور BIP-361 جیسے پروپوزلز پیش کیے گئے ہیں جو نیٹ ورک کی سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے نئے طریقے متعارف کراتے ہیں۔ تاہم، ان تجاویز پر اتفاق رائے حاصل کرنا ایک پیچیدہ عمل ہے کیونکہ اس میں صارفین، مائنرز، ڈویلپرز اور بڑی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی شرکت ضروری ہے۔ اس مسئلے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے، کچھ ادارے جیسے جےفریز نے اپنے بٹ کوائن کے حصص کو کم کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ صورتحال مارکیٹ اور صارفین کے لیے اہم ہے کیونکہ حکمرانی کے بحران کے باعث بٹ کوائن کی حفاظت اور مستقبل کی سمت متاثر ہو سکتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine

ٹیگز:
شئیر کیجیے: