عالمی مستحکم سکے کے قواعد میں سست روی، BIS نے تعاون کی اپیل کی

عالمی سطح پر مستحکم سکے (stablecoin) کے قواعد و ضوابط کی تیاری میں سست روی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے باعث بین الاقوامی مالیاتی ادارہ BIS نے ممالک اور پالیسی سازوں سے تعاون بڑھانے کی اپیل کی ہے تاکہ مالیاتی نظام میں تقسیم اور غیر یقینی صورتحال سے بچا جا سکے۔ مستحکم سکے، جو کرپٹو کرنسی کی ایک قسم ہیں اور عموماً کسی مستحکم اثاثے سے منسلک ہوتے ہیں، مالیاتی نظام میں تیزی سے اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔ تاہم، ان کے استعمال میں اچانک فنڈز کی واپسی اور دیگر مالی خطرات کی وجہ سے پالیسی ساز مختلف حفاظتی اقدامات پر غور کر رہے ہیں، جن میں سود کی ادائیگیوں کی حد بندی اور مرکزی بینک کی پشت پناہی شامل ہے۔ اس سست روی کا مطلب ہے کہ عالمی سطح پر قواعد و ضوابط میں ہم آہنگی کا فقدان ہو سکتا ہے، جو مارکیٹ میں تقسیم اور غیر یقینی صورتحال کو بڑھا سکتا ہے۔ اس صورتحال میں، سرمایہ کاروں اور صارفین کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ قواعد کی غیر یقینی صورتحال مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو متاثر کر سکتی ہے۔ مستقبل میں، اگر تعاون نہ بڑھا تو مالیاتی نظام میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، لیکن اگر پالیسی ساز مؤثر طریقے سے مل کر کام کریں تو مستحکم سکے کے استعمال کو محفوظ اور مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

ٹیگز:
شئیر کیجیے: