ایران نے ہرمز کے تنگ راستے سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول فیس بٹ کوائن میں وصول کرنے کا اعلان کیا ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ ایران کا یہ اقدام اس جنگ زدہ خطے میں اپنی حکمرانی کو مضبوط کرنے اور امریکی پابندیوں سے بچنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایران نے تیل کی برآمدات کے لیے کام کرنے والے جہازوں کو لازمی طور پر اپنی انوینٹری کی معلومات شیئر کرنے اور ہر بیرل تیل کے بدلے بٹ کوائن میں فیس ادا کرنے کا کہا ہے۔ اس سے ایران کو عالمی مالیاتی نظام کی پابندیوں سے بچنے میں مدد ملے گی کیونکہ بٹ کوائن ایک غیر مرکزی اور سنسرشپ مزاحم کرنسی ہے۔ اس اقدام سے بٹ کوائن کی قدر میں اضافہ بھی دیکھا گیا ہے، جو اس کی عالمی قبولیت اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ قدم دیگر ممالک کے لیے بھی مالیاتی پابندیوں سے بچنے کے لیے بٹ کوائن کے استعمال کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ تاہم، اس سے خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے، کیونکہ ہرمز کی گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت حساس ہے۔ مستقبل میں اس اقدام کے اثرات عالمی مارکیٹ اور خطے کی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine