خزانہ سیکرٹری بیسنٹ کا کرپٹو انڈسٹری کے ‘نیہلسٹس’ پر تنقید، کلیرٹی ایکٹ کی منظوری غیر یقینی

خزانہ سیکرٹری بیسنٹ نے کرپٹو کرنسی انڈسٹری کے کچھ عناصر کو ‘نیہلسٹس’ قرار دیتے ہوئے کلیرٹی ایکٹ کی منظوری میں تاخیر پر سخت تنقید کی ہے۔ یہ ایکٹ کرپٹو کرنسی کے ضوابط کو واضح کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، لیکن کئی ماہ سے اس کی منظوری میں رکاوٹیں حائل ہیں۔ اس تاخیر کی وجہ سے مارکیٹ میں عدم استحکام اور سرمایہ کاروں میں بے یقینی پائی جاتی ہے۔ کلیرٹی ایکٹ کا مقصد کرپٹو کرنسی کے استعمال اور ٹریڈنگ کے حوالے سے قانونی فریم ورک قائم کرنا ہے تاکہ صارفین اور کاروباری اداروں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اس غیر یقینی صورتحال کے باعث کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور ممکن ہے کہ اگر یہ ایکٹ جلد منظور نہ ہوا تو مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملے۔ اس کے علاوہ، قانون سازی میں تاخیر سے کرپٹو انڈسٹری کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے اور مالیاتی نظام میں شفافیت کا فقدان بھی بڑھ سکتا ہے۔ مستقبل میں اس ایکٹ کی منظوری کے لیے سیاسی اور قانونی محاذ پر مزید کوششیں متوقع ہیں تاکہ مارکیٹ کو استحکام فراہم کیا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

ٹیگز:
شئیر کیجیے: