وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ مستحکم کوائن کی پیداوار پر پابندی صارفین کو زیادہ نقصان پہنچائے گی

وائٹ ہاؤس کے اقتصادی مشیروں نے ایک حالیہ تحقیق میں کہا ہے کہ مستحکم کوائنز (stablecoins) پر پیداوار یا سود کی ادائیگی پر پابندی عائد کرنے سے صارفین کو زیادہ نقصان ہوگا بجائے اس کے کہ بینکوں کو فائدہ پہنچے۔ یہ تحقیق امریکی حکومت کے اقتصادی مشیروں کی جانب سے کی گئی ہے جس میں یہ ثابت کیا گیا کہ اس قسم کی پابندی سے بینکوں کی قرض دہی میں معمولی سا اضافہ ہوگا، تاہم صارفین کو جو مالی نقصان ہوگا وہ اس سے کہیں زیادہ ہوگا۔

مستحکم کوائنز کے جاری کنندگان کو قانون کے تحت اپنے جاری کردہ کوائنز کے برابر ریزرو رکھنا ضروری ہے، جو عام طور پر محفوظ مالی اثاثوں جیسے ٹریژری بلز یا منی مارکیٹ فنڈز میں ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود، پابندی کے حامیوں کا کہنا تھا کہ اگر مستحکم کوائنز پر سود دیا جائے تو صارفین اپنے پیسے بینکوں سے نکال کر کوائنز میں منتقل کر دیں گے، جس سے بینکوں کی قرض دینے کی صلاحیت متاثر ہوگی۔

تاہم، وائٹ ہاؤس کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مستحکم کوائنز کے پیسے مالی نظام میں دوبارہ گردش کرتے ہیں اور زیادہ تر ریزروز بینکنگ نظام میں واپس آ جاتے ہیں۔ اس لیے بینکوں پر اس کا اثر بہت کم ہوگا۔ اس تحقیق کے مطابق، صارفین کو جو نقصان ہوگا وہ تقریباً چھ گنا زیادہ ہوگا جتنا فائدہ بینکوں کو پہنچے گا۔

یہ نتائج اس قانون کے نفاذ اور مالیاتی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ صارفین کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے مستحکم کوائنز کے حوالے سے موجودہ پابندیوں پر نظر ثانی کی ضرورت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مستقبل میں اس موضوع پر مزید بحث اور ممکنہ اصلاحات متوقع ہیں تاکہ مالیاتی نظام میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine

ٹیگز:
شئیر کیجیے: