امریکی خزانہ نے GENIUS ایکٹ کے تحت پہلی قواعد سازی کا آغاز کیا

امریکی محکمہ خزانہ نے GENIUS ایکٹ کے تحت پہلی قواعد سازی کا عمل شروع کر دیا ہے، جس میں 87 صفحات پر مشتمل تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس تجویز میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ریاستی سطح پر مستحکم کوائنز کے قواعد و ضوابط وفاقی معیار کے مطابق یا اس سے بہتر ہونے کی صورت میں ریاستی نگرانی میں رہ سکتے ہیں۔ GENIUS ایکٹ کے تحت وہ مستحکم کوائنز جن کی مارکیٹ ویلیو 10 ارب ڈالر سے کم ہے، ریاستی قواعد و ضوابط کے تحت آ سکتے ہیں، بشرطیکہ یہ قواعد وفاقی معیار کے برابر یا اس سے زیادہ ہوں۔ اس تجویز میں وفاقی اور ریاستی قواعد کے درمیان فرق واضح کیا گیا ہے، جہاں وفاقی قواعد میں ریزرو بیکنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات شامل ہیں جبکہ ریاستی قواعد میں لائسنسنگ، نگرانی اور نفاذ کے امور میں لچک رکھی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد امریکی مستحکم کوائنز کی نگرانی کو مضبوط بنانا اور مالیاتی نظام میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ قواعد و ضوابط مارکیٹ میں استحکام اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ آئندہ چند ماہ میں عوامی مشاورت کے بعد حتمی قواعد جاری کیے جائیں گے، جو امریکی کرپٹو کرنسی مارکیٹ کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine

ٹیگز:
شئیر کیجیے: