امریکی سینیٹرز نے ‘مائنڈ ان امریکہ ایکٹ’ پیش کیا، بٹ کوائن مائننگ کو ملک میں لانے اور اسٹریٹجک ریزرو کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش

امریکی سینیٹرز بل کیسیڈی اور سنتھیا لمس نے ایک نیا قانون متعارف کرایا ہے جس کا مقصد بٹ کوائن کی مائننگ کو امریکہ میں واپس لانا اور اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو کو قانونی شکل دینا ہے۔ یہ قانون، جسے ‘مائنڈ ان امریکہ ایکٹ’ کہا جاتا ہے، ملکی ڈیجیٹل اثاثہ مائننگ سیکٹر کو مضبوط بنانے، سپلائی چین کو محفوظ بنانے اور بٹ کوائن کو وفاقی ریزرو کی حکمت عملی میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس قانون کے تحت، امریکہ میں کام کرنے والے کرپٹو مائننگ آپریشنز کے لیے ایک وفاقی سرٹیفیکیشن پروگرام قائم کیا جائے گا، جس کے ذریعے غیر ملکی ہارڈویئر پر انحصار کم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، یہ قانون ڈونلڈ ٹرمپ کے اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو کے ایگزیکٹو آرڈر کو قانونی حیثیت دے گا۔

سینیٹرز کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل اثاثہ مائننگ امریکی معیشت کا اہم حصہ ہے اور اسے ملک میں ہی فروغ دینا چاہیے۔ اس قانون کے تحت، محکمہ تجارت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے مائننگ مراکز اور پولز کے لیے ‘مائنڈ ان امریکہ’ سرٹیفیکیشن تیار کرے جو سیکیورٹی اور سورسنگ کے معیار پر پورا اتریں۔

یہ قانون چینی کمپنیوں کی جانب سے تیار کردہ مائننگ ہارڈویئر پر انحصار کو ختم کرنے کے لیے ایک مرحلہ وار منصوبہ بھی پیش کرتا ہے، جس کا ہدف دہائی کے آخر تک مکمل عمل درآمد ہے۔ اس کے علاوہ، بٹ کوائن مائننگ کو گرڈ مینجمنٹ اور توانائی کی ترقی کے لیے ایک اہم آلہ کے طور پر بھی استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہ اقدام امریکی معیشت اور قومی سلامتی کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ موجودہ صورتحال میں امریکہ عالمی بٹ کوائن ہیش ریٹ کا ایک بڑا حصہ کنٹرول کرتا ہے لیکن مائننگ ہارڈویئر کی اکثریت چین میں تیار ہوتی ہے۔ اس قانون سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ملک میں کرپٹو مائننگ کی صنعت کو مضبوط کرے گا اور توانائی کے شعبے میں بھی مثبت اثرات مرتب کرے گا۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: bitcoinmagazine

ٹیگز:
شئیر کیجیے: