بٹ کوائن مائننگ کی صنعت میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں مائنرز اپنی روایتی سرگرمیوں سے ہٹ کر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی کمپنیوں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ گزشتہ سہ ماہی میں ایک عام عوامی مائنر کو ایک بٹ کوائن پیدا کرنے میں تقریباً 79,995 ڈالر خرچ ہوئے، جبکہ بٹ کوائن کی قیمت تقریباً 70,000 ڈالر ہے، جس کی وجہ سے مائننگ کا مالی ماڈل غیر مستحکم ہو گیا ہے۔ اس مالی دباؤ کے تحت، مائنرز نے تقریباً 70 ارب ڈالر کے معاہدے حاصل کر کے اپنی توجہ اے آئی کی جانب منتقل کر دی ہے۔ اس تبدیلی کو مالی طور پر ممکن بنانے کے لیے وہ اپنی بٹ کوائن کی ذخائر کو فروخت کر رہے ہیں تاکہ نئے کاروباری ماڈلز کو فنڈ کیا جا سکے۔ اس رجحان سے مارکیٹ میں بٹ کوائن کی فراہمی اور قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے، جبکہ مائننگ انڈسٹری کی مستقبل کی سمت بھی واضح ہو رہی ہے۔ آئندہ عرصے میں یہ تبدیلیاں مائننگ کی صنعت اور کرپٹو مارکیٹ دونوں کے لیے اہم نتائج رکھتی ہیں، خاص طور پر جب ٹیکنالوجی کے شعبے میں اے آئی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو مدنظر رکھا جائے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk