نیویارک میں ایک سیاسی مہم میں حال ہی میں ایک میلر جاری کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سابق عالمی کرپٹو ایکسچینج ایف ٹی ایکس کے سربراہ سیم بینک مین-فریڈ نے ایک امریکی ہاؤس کے ڈیموکریٹک امیدوار کو مالی امداد فراہم کی تھی۔ اس امداد کی رقم تقریباً ایک لاکھ ڈالر بتائی گئی ہے۔ یہ معاملہ اس امیدوار کے خلاف اے آئی پر مبنی ایک سیاسی ایکشن کمیٹی (پی اے سی) کی جانب سے تنقید کا باعث بنا ہے۔ اس واقعے نے نیویارک کی سیاسی فضاء میں ہلچل مچا دی ہے اور ممکنہ طور پر انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس قسم کی مالی امداد کے حوالے سے شفافیت اور قواعد و ضوابط پر بحث بھی زور پکڑ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات سیاسی مہمات میں فنڈنگ کے ذرائع کی نگرانی کو مزید سخت کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اس معاملے سے کرپٹو کرنسی کی صنعت اور اس کے سابق رہنماؤں کی سیاسی مداخلت کے حوالے سے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ آئندہ دنوں میں اس کیس پر مزید تحقیقات اور سیاسی ردعمل متوقع ہے جو نیویارک کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk