امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی میں ایک بار پھر تیزی آ گئی ہے جہاں امریکی فوج نے ایران کے خلاف نویں مسلسل رات بھی فضائی حملے کیے۔ یہ حملے اس وقت شروع ہوئے جب شمالی عراق میں ایک امریکی فوجی ایرانی ڈرون کو ناکارہ بنانے کی کوشش میں جاں بحق ہوا۔ اس کے علاوہ، اردن میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک حملے میں دو امریکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی بحری اور میزائل صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنانا ہے۔ ان حملوں میں ایرانی کمانڈ مراکز، بحری صلاحیتیں، میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یہ جنگی کارروائیاں صرف فوجی اہداف تک محدود نہیں رہیں بلکہ پلوں، بجلی کے نظام اور بندرگاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جس سے خطے میں انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی تیل کی مارکیٹ پر گہرا اثر ڈالا ہے اور برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو جون کے وسط کے بعد سب سے بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ خطے میں کشیدگی میں اضافہ عالمی معیشت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی توانائی کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کر سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
علاوہ ازیں، ایران نے عبوری امن معاہدے کی پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ امریکہ نے خطے میں مزید F-16 اور F-35 لڑاکا طیارے تعینات کیے ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر نے امریکی صدر کے دستخطوں کو بے وقعت قرار دیتے ہوئے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ اس کشیدگی کا عالمی مالیاتی اور سیاسی نظام پر گہرا اثر پڑنے کا خدشہ ہے کیونکہ خطے میں جنگی حالات کی شدت سے سرمایہ کاری کے بہاؤ متاثر ہو سکتے ہیں، مارکیٹوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی ہے اور خطے کی توانائی کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں، جو عالمی معیشت کی بحالی کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance