امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس سے ایک نادر قومی ٹیلی ویژن خطاب کیا جس میں انہوں نے مالیاتی منڈیوں میں جاری اتار چڑھاؤ کے دوران امریکی عوام کو تسلی دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے عراق میں جاری جنگ کے جلد ختم ہونے کے امکانات کا اظہار کیا، تاہم ممکنہ عارضی فوجی کارروائیوں کے اشارے بھی دیے۔ اس خطاب کے دوران عالمی سطح پر سونا اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی جبکہ امریکی اور برینٹ کروڈ آئل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ سونے کی قیمت میں ایک دن کے دوران سو ڈالر سے زائد کی کمی اور چاندی کی قیمت میں تین فیصد سے زیادہ کی گراوٹ ہوئی، جب کہ تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
صدر ٹرمپ پر جنگ کے مقاصد واضح کرنے اور تنازع کے حل کے لیے حکمت عملی پیش کرنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ جنگ پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور اس کا انتظام مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا خطاب ابتدائی جنگی دنوں کی طرح ایک متحرک کرنے والی تقریر محسوس ہوا، جو کہ اس تنازع کے پیچیدہ حالات کی عکاسی کرتا ہے۔
بحر ہرمز کی تنگی، جو دنیا کے سمندری تیل کی ایک پانچویں حصہ داری رکھتی ہے، زیادہ تر بند ہے جس سے عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ حکومت نے ابھی تک ایران کو اس راستے کو دوبارہ کھولنے پر قائل کرنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی پیش نہیں کی ہے، جبکہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ کے بعد توانائی کے بحران میں کمی آئے گی۔ اس صورتحال نے عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا ہے اور آئندہ دنوں میں مالیاتی استحکام کے لیے چیلنجز کا سامنا رہنے کا امکان ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance