امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری تنازع کے دوران بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے عوامی تشویشات کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ صدر نے اس تنازع کو ایک معمولی رخ بدلاؤ قرار دیا ہے تاکہ عوام کو پھیلنے والے خوف اور اقتصادی اثرات سے بچایا جا سکے۔ اس بیان کے دوران، توانائی کی مارکیٹوں میں خاصی غیر یقینی صورتحال دیکھی گئی ہے، جس کا تعلق مشرق وسطیٰ میں تیل کی فراہمی اور قیمتوں پر پڑنے والے ممکنہ اثرات سے ہے۔ صدر کے اس بیان کا مقصد عوام کو یہ یقین دلانا ہے کہ یہ صورتحال طویل المدتی اقتصادی بحران کا باعث نہیں بنے گی۔ اس کے باوجود، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تنازعہ بڑھا تو عالمی تیل کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس وقت عالمی مارکیٹوں میں صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تبدیلی کا فوری اندازہ لگایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance