نیویارک کی وفاقی عدالت نے بلاک فلز، جو ایک معروف کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ فرم ہے، کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔ یہ اقدام ڈومینین کیپٹل کے ساتھ 70 بٹ کوائن کے تنازع کے باعث کیا گیا ہے۔ عدالت نے بلاک فلز کو حکم دیا ہے کہ وہ ان بٹ کوائنز کو منتقل نہ کرے کیونکہ اس کے خلاف نکالے جانے والے فنڈز معطل کر دیے گئے ہیں اور کمپنی کی مالی حالت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس فیصلے سے کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر پڑ سکتا ہے اور دیگر کرپٹو ایکسچینجز بھی اپنی مالی شفافیت کو بہتر بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرپٹو کرنسی کی قانونی اور مالی پیچیدگیاں بڑھ رہی ہیں، جس سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ آئندہ ممکن ہے کہ اس کیس کے نتیجے میں کرپٹو کرنسی کے ضوابط میں سختی آئے اور سرمایہ کاروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید قوانین بنائے جائیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk