برازیل کے ادائیگی نظام پر امریکی تنقید اور ڈالر اسٹیبل کوائنز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت

برازیل میں غیر ڈالر ادائیگی کے نظام کی ترویج اور اسٹیبل کوائنز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے عالمی مالیاتی منظرنامے میں اہم تبدیلیاں لائی ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے برازیل کے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، کیونکہ واشنگٹن اسے ڈالر پر مبنی تجارت کے لیے ایک ممکنہ خطرہ سمجھتا ہے۔ برازیل میں Pix نامی ادائیگی کا نظام اور ڈالر سے منسلک اسٹیبل کوائنز کی بڑھتی ہوئی تعداد نے مالیاتی لین دین کے طریقوں کو تبدیل کر دیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں، تقریباً 90 فیصد کرپٹو کرنسی کے لین دین ڈالر سے منسلک اسٹیبل کوائنز کے ذریعے ہو رہے ہیں، جو برازیل کی مالیاتی خودمختاری کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ اس تبدیلی کے فوری اثرات میں برازیل کے صارفین کو تیز، کم لاگت اور زیادہ محفوظ ادائیگی کے اختیارات میسر آ رہے ہیں، جبکہ عالمی مالیاتی نظام میں بھی اس کا اثر محسوس کیا جا رہا ہے۔ مستقبل میں، اگر یہ رجحان جاری رہا تو برازیل کی مالیاتی پالیسیوں میں مزید خودمختاری اور عالمی کرنسیوں کے مابین توازن میں تبدیلی متوقع ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی ممکنہ مالیاتی خطرات اور بین الاقوامی کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے، جس کے لیے حکومتی اور مالیاتی اداروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

ٹیگز:
شئیر کیجیے: