امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے منسلک دو کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کے خلاف پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان پلیٹ فارمز نے لاکھوں ڈالر کی ایسی رقوم کی منتقلی اور مبینہ منی لانڈرنگ میں سہولت فراہم کی جو ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور سے وابستہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوئیں۔ کارروائی میں جارجیا اور متحدہ عرب امارات میں قائم ایک آپریٹر کے ساتھ ایران میں سرگرم ایک پلیٹ فارم کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ پابندیوں کے نتیجے میں امریکی دائرۂ اختیار میں موجود متعلقہ اثاثے منجمد ہوں گے، جبکہ امریکی شہریوں اور کمپنیوں کو نامزد اداروں کے ساتھ براہِ راست یا بالواسطہ لین دین سے روک دیا جائے گا۔ غیر امریکی مالیاتی ادارے بھی ثانوی پابندیوں اور امریکی مالیاتی نظام تک رسائی کے خطرے کے باعث ان پلیٹ فارمز سے تعلقات پر نظرثانی کر سکتے ہیں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن ایران کی روایتی بینکاری، غیر رسمی ایکسچینج ہاؤسز، فرنٹ کمپنیوں اور ڈیجیٹل اثاثوں کے ذریعے پابندیوں سے بچنے والے مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف دباؤ بڑھا رہا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے حالیہ کارروائیوں میں ایران سے وابستہ کرپٹو ایکسچینجز پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پابندیوں سے بچاؤ، غیر قانونی رقوم کی منتقلی اور حساس بین الاقوامی ادائیگیوں کے لیے استعمال ہوئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکام ڈیجیٹل اثاثوں کو محض ایک مالیاتی یا ٹیکنالوجی کا شعبہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، دہشت گردی کی مالی معاونت اور عالمی پابندیوں کے نفاذ سے جڑا ہوا میدان سمجھ رہے ہیں۔
مارکیٹ کے لیے اس فیصلے کی اہمیت کئی سطحوں پر ہے۔ سب سے پہلے، کرپٹو ایکسچینجز اور اسٹیبل کوائن فراہم کرنے والے اداروں پر تعمیری نگرانی، صارفین کی شناخت اور لین دین کی نگرانی کے تقاضے مزید سخت ہو سکتے ہیں۔ دوسرے، بین الاقوامی ادارہ جاتی سرمایہ کار ایسے پلیٹ فارمز، ٹوکنز اور ادائیگی کے نیٹ ورکس سے دور رہنے کو ترجیح دے سکتے ہیں جن پر پابندیوں یا منی لانڈرنگ کا خطرہ ہو، جس سے لیکویڈیٹی اور مارکیٹ کے اعتماد پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اگرچہ یہ پابندیاں پوری کرپٹو مارکیٹ کے لیے فوری نظامی بحران نہیں بنتیں، تاہم ان کا اثر جذبات، تعمیری خطرے اور سرحد پار ڈیجیٹل ادائیگیوں کے مستقبل پر نمایاں ہو سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt