اسٹینلے ڈروکن ملر نے اگلے 10 سے 15 سالوں میں سٹیبل کوائنز کے ذریعے عالمی ادائیگیوں کے نظام میں تبدیلی کے امکانات پر مثبت رائے دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سٹیبل کوائنز روایتی مالیاتی نظام کے مقابلے میں تیز اور کم لاگت والے حل فراہم کرتے ہیں، جو عالمی مالیاتی نظام میں ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بٹ کوائن کو قدر کے ذخیرے کے طور پر تسلیم کیا لیکن عمومی طور پر کرپٹو کرنسی مارکیٹ کے حوالے سے اپنی شکوک و شبہات کا اظہار بھی کیا۔ اس پیش رفت سے صارفین اور مالیاتی اداروں کو ادائیگیوں میں سہولت اور تیزی ملنے کی توقع ہے، جبکہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے وسیع پیمانے پر اپنانے سے مالیاتی نظام میں مزید شفافیت اور کارکردگی ممکن ہو سکتی ہے۔ تاہم، کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال اور ضوابط کی تبدیلیاں اس کے اثرات کو متاثر کر سکتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance