Stablecoin کے تجارتی حجم میں 2035 تک زبردست اضافہ متوقع

Stablecoin کے تجارتی حجم میں 2035 تک 1.5 کوآڈرلیئن ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جو مالیاتی مارکیٹ میں ایک نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ Chainalysis کی رپورٹ کے مطابق، نسل در نسل دولت کی منتقلی اور پوائنٹ آف سیل پر Stablecoin کے استعمال میں اضافہ اس ترقی کی بنیادی وجوہات ہیں۔ یہ رجحان روایتی ادائیگی کے نظاموں کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے اور مالیاتی لین دین کی دنیا میں ایک نیا دور شروع کر سکتا ہے۔ Stablecoin کی بڑھتی ہوئی مقبولیت صارفین اور تاجروں دونوں کے لیے آسان اور تیز تر مالیاتی لین دین کے امکانات فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، اس ترقی سے مالیاتی شمولیت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں روایتی بینکنگ سہولیات محدود ہیں۔ تاہم، اس تیزی سے بڑھتے ہوئے حجم کے ساتھ ریگولیٹری چیلنجز اور سیکیورٹی کے مسائل بھی سامنے آ سکتے ہیں، جن پر توجہ دینا ضروری ہو گا۔ مستقبل میں Stablecoin کے استعمال میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس سے عالمی مالیاتی نظام پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

ٹیگز:
شئیر کیجیے: