دبئی میں اسپین کے شہری ڈیوڈ میرینو کو کرپٹو کرنسی کی ایک بڑی پانزی اسکیم کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ اسکیم، جسے ایف ایکس وننگ کہا جاتا ہے، اسپین کی تاریخ کی سب سے بڑی کرپٹو سے متعلق پانزی اسکیم تصور کی جاتی ہے جس میں تقریباً 460 ملین یورو کی رقم اور پندرہ ہزار سے زائد سرمایہ کار متاثر ہوئے ہیں۔ میرینو نے 2021 میں کمپنی چھوڑنے کے باوجود اس اسکیم کو خفیہ طور پر چلایا، جہاں انہوں نے فاریکس اور کرپٹو کرنسی میں بلند منافع کی یقین دہانی کروا کر سرمایہ کاروں کو راغب کیا۔ یہ اسکیم تقریباً تیس ممالک میں سرگرم تھی اور نئے سرمایہ کاروں کے فنڈز سے پرانے سرمایہ کاروں کو ادائیگیاں کی جاتیں۔ اسپین کی حکومت کے مطابق متحدہ عرب امارات کو حوالگی کے دستاویزات جمع کروانے کے لیے 15 سے 40 دن کا وقت ہوتا ہے۔ مزید برآں، ایف ایکس وننگ پر امریکہ اور میکسیکو میں بھی تحقیقات جاری ہیں، جہاں امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی نے اس اسکیم کی مالی حجم کو 100 ارب ڈالر تک اندازہ لگایا ہے۔ مارچ 2026 میں میرینو نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں اس نے دوسروں کے فنڈز رکھنے سے انکار کیا اور ذمہ داری دیگر ٹیم ممبران پر ڈال دی۔ اسپین کی نیشنل سیکیورٹیز مارکیٹ کمیشن نے 2021 سے خبردار کیا تھا کہ ایف ایکس وننگ سرمایہ کاری کی خدمات فراہم کرنے کا مجاز ادارہ نہیں ہے۔ اس گرفتاری اور تحقیقات کا اثر عالمی کرپٹو مارکیٹ پر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ان سرمایہ کاروں کے لیے جو اس اسکیم سے متاثر ہوئے ہیں۔ مستقبل میں قانونی کارروائیوں اور ممکنہ حوالگی کے عمل سے اس کیس کی نوعیت مزید واضح ہوگی۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance