جنوبی کوریا نے حال ہی میں اپنی درآمدی قیمتوں میں تیس سال کی بلند ترین اضافہ دیکھا ہے، جو ملک کی معیشت پر شدید دباؤ کا باعث بنا ہے۔ مارچ کے مہینے میں درآمدی قیمتوں میں 16.1 فیصد ماہانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو جنوری 1998 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ سالانہ بنیادوں پر بھی یہ اضافہ 18.4 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ برآمدی قیمتوں میں بھی 16.3 فیصد ماہانہ اضافہ ہوا ہے، جو تجارتی بہاؤ میں مہنگائی کے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔ اس صورتحال کی بنیادی وجوہات میں ایرانی جنگ کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور جنوبی کوریائی وون کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 2.6 فیصد کمی شامل ہیں۔ دبئی کرود آئل کی قیمت مارچ میں تقریباً دوگنی ہو کر فی بیرل 128.52 ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس صورتحال سے نہ صرف درآمدات مہنگی ہوئی ہیں بلکہ صارفین اور کاروباری اداروں کو بھی مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ مستقبل میں اگر تیل کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں یا کرنسی کی قدر کم رہتی ہے تو معیشت پر مزید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے افراط زر میں اضافہ اور مالیاتی استحکام کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ حکومت اور مرکزی بینک کی جانب سے اس صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مناسب حکمت عملی کے ذریعے معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance