فلپائن کی حکومت نے درآمد شدہ چاول کی قیمت پر 50 پیسوں فی کلو کی حد مقرر کرنے کی منظوری دی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کو مہنگائی کے دباؤ سے بچانا اور ضروری اشیاء کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔ عالمی سطح پر ایران میں جاری تنازعہ خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن رہا ہے، جس کے اثرات فلپائن کی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔ حکومت کی یہ کوشش مارکیٹ کو مستحکم کرنے اور عوام کے لیے ضروری اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ اس فیصلے سے قلیل مدتی طور پر صارفین کو ریلیف ملنے کی توقع ہے، تاہم طویل مدتی اثرات عالمی مارکیٹ کی صورتحال پر منحصر ہوں گے۔ فلپائن کی معیشت میں اس طرح کے اقدامات سے مہنگائی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance