سوئس بینک جولئیس بیئر کے ہیڈ آف اکنامکس اور نیکسٹ جنریشن ریسرچ، نوربرٹ رکر کے مطابق، حالیہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات کے باوجود تیل کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خام تیل کی طلب فراہمی سے زیادہ ہے، لیکن ہرمز کے تنگ راستے سے تجارتی سرگرمیاں جلد معمول پر آنا ضروری ہیں تاکہ مزید مالیاتی جھٹکے سے بچا جا سکے۔ رکر نے 1990 کی خلیجی جنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے دوران بھی تیل کی قیمتوں میں عارضی اضافہ ہوا تھا، لیکن اس کے بعد قیمتیں مستحکم ہو گئیں۔ ان کے مطابق، موجودہ صورتحال میں بھی تیل کی قیمتوں کا عروج ہو چکا ہے اور ممکنہ طور پر قیمتیں اب گرنا شروع ہو سکتی ہیں۔ اس پیش رفت کا اثر عالمی مارکیٹوں اور صارفین پر پڑے گا، خاص طور پر توانائی کی قیمتوں میں استحکام کے حوالے سے۔ تاہم، خطے میں سیاسی کشیدگی اور تجارتی راستوں کی صورتحال مستقبل میں قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance