عالمی مارکیٹوں میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں تیل کی فیوچرز کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔ اس اضافے کے پیچھے بنیادی وجہ عالمی سطح پر جاری جنگی کشیدگی ہے جس نے خاص طور پر ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں پر منفی اثر ڈالا ہے۔ نکیئی انڈیکس میں چھ فیصد سے زائد کمی اور کوسپی میں آٹھ فیصد تک کمی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ یہ صورتحال تیل کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کو ظاہر کرتی ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اس قسم کا اضافہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں لیکویڈیٹی اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk