مائیکل سیلور، جو کہ اسٹریٹیجی کے بانی ہیں، نے حال ہی میں ایک تفصیلی پوسٹ میں BIP 110 کی مخالفت میں 100 وجوہات پیش کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تجویز بٹ کوائن کے اتفاق رائے کے قواعد کو استعمال کرتے ہوئے کچھ متنازع لیکن موجودہ طور پر جائز لین دین کی قسموں کو محدود کرے گی، جو کہ نیٹ ورک کے استعمال پر حکومتی مداخلت کے مترادف ہوگی۔ BIP 110، جسے "ریڈیوسڈ ڈیٹا ٹیمپورری سوفٹ فورک” کہا جاتا ہے، جون 2026 میں مکمل کیا گیا تھا اور اس کا مقصد ایک سال تک چلنا ہے۔ اس میں سات نئے قواعد شامل ہیں جو نیٹ ورک کی کارکردگی اور سیکیورٹی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ سیلور نے کہا کہ اس تجویز میں 55 فیصد مائنرز کی حمایت کی ضرورت ہے جو کہ روایتی 95 فیصد سے کم ہے، جس سے چین سپلٹ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور مائنرز کی فیس کی آمدنی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ نیٹ ورک میں پہلے سے ایسے اوزار موجود ہیں جو غیر ضروری لین دین کو محدود کر سکتے ہیں بغیر نیٹ ورک کے اصولوں میں تبدیلی کے۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بٹ کوائن کی بنیاد کو محتاط اور مستحکم رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ نیٹ ورک کی سلامتی اور استحکام برقرار رہے۔ مستقبل میں اس قسم کی تجاویز پر بحث جاری رہنے کا امکان ہے، جس سے مارکیٹ اور صارفین پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance