جمعہ، 14 اگست 2026 کو بٹ کوائن کی قیمت 63 ہزار ڈالر سے نیچے آ گئی، جبکہ خام تیل اور بانڈ ییلڈز میں اضافہ ہوا۔ مارکیٹ میں یہ حرکت سرمایہ کاروں کی خطرے سے گریز کی بڑھتی ہوئی ترجیح کی عکاسی کرتی ہے۔
ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 82 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جس سے توانائی کی لاگت اور مجموعی افراطِ زر کے دباؤ سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا۔ تیل کی بلند قیمتیں مرکزی بینکوں کے لیے شرحِ سود میں نرمی کی گنجائش محدود کر سکتی ہیں، خاص طور پر اگر مہنگائی دوبارہ مضبوط ہونے لگے۔
امریکی اور دیگر اہم بانڈز کی ییلڈز بڑھنے سے محفوظ آمدنی والے اثاثوں کی کشش میں اضافہ ہوا، جبکہ بٹ کوائن، ٹیکنالوجی اسٹاکس اور دیگر رسک اثاثوں پر دباؤ پڑا۔ بلند ییلڈز عموماً ایسے اثاثوں کے لیے منفی سمجھی جاتی ہیں جن کی قدر مستقبل کی ترقی اور لیکویڈیٹی کی توقعات سے جڑی ہو۔
اب سرمایہ کار تیل کی قیمتوں، افراطِ زر کے اعدادوشمار، مرکزی بینکوں کے بیانات اور بانڈ مارکیٹ کے اگلے ردِعمل پر توجہ دیں گے۔ اگر مہنگائی کا دباؤ برقرار رہا تو بٹ کوائن میں اتار چڑھاؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk